Forbes Asia Nine Pakistanis 30 under 30 List

Forbes Asia Nine Pakistanis 30 under 30 List 2018-19 updated. Nine Pakistanis have made it to Forbes Asia’s 30 Under 30. The 2018 list features 30 game changers, young innovators and disruptors across 10 categories “who are re-inventing industries and driving change” across the continent.

Nine Pakistanis feature on Forbes ‘30 under 30’ Asia list. Every year Forbes releases it’s much anticipated “30 under 30” Asia list and just like last year, this year again Pakistanis have managed to make it to the list.

Momina Mustehsan, 26, Musician

Momina Mustehsan of Coke Studio fame features in the Entertainment and Sports category. The musician and activist has been using her “newfound exposure to advocate for social causes important to her, including women’s rights, cyber bullying and mental health awareness.”

Momina Mustehsan. PHOTO: Instagram

Momina Mustehsan. PHOTO: Instagram

Sadia Bashir, 29, Founder PixelArt Games Academy

The 29-year old entrepreneur has been included in the list under the Enterprise Technology category. Bashir co-founded Pixel Art Games Academy whose mission is to plug the void between industry demand and education by providing training in video game development and recruitment opportunities.

Sadia Bashir. PHOTO: FORBES

Sadia Bashir. PHOTO: FORBES

Muhammad Shaheer Niazi, 17, Scientist

17-year-old Muhammad Shaheer Niazi found a way to photograph the movement of ions forming a honeycomb-like shape when electrically-charged particles try to pass through a pool of oil. Niazi has been included in the Healthcare and Science category. He has had his research published in the Royal Open Science Journal and aspires to win the Nobel in physics one day.

Muhammad Shaheer Niazi. PHOTO: FORBES

Muhammad Shaheer Niazi. PHOTO: FORBES

Hamza Farrukh, 24, Founder Bondh-E-Shams

Hamza Farrukh, listed in the Social Entrepreneurs category, founded Bondh-e-Shams-The Solar Water Project. He has developed a solar-powered water extraction and filtration system. Costing $8,000, the system has a 25-year lifespan and can serve nearly 5,000 people daily.

Hamza Farrukh. PHOTO: FORBES

Hamza Farrukh. PHOTO: FORBES

Syed Faizan Hussain, 24, Founder Perihelion Systems

The 24-year-old entrepreneur is a solution-driven social activist. His non-profit, Perihelion Systems aims to better the lives of many using technology. Some of Perihelion’s products include; Edu-Aid, an American Sign Language translating software; One Health, a disease surveillance and tracking system used to predict outbreaks and alert health institutions to expedite intervention; and Glove Gauge, wearable technology to facilitate professional production processes such as measurements.

Syed Faizan Hussain. PHOTO: FORBES

Syed Faizan Hussain. PHOTO: FORBES

Adnan and Adeel Shaffi of Price Oye 

The Shaffi brothers, 28 and 30 respectively, made it to the list in the Retail and Ecommerce category. They founded PriceOye, an online price comparison engine for mobile phones in second and third-tier cities Pakistani cities. The site enjoys over a million views per month.

Adnan and Adeel Shaffi. PHOTO: FORBES

Adnan and Adeel Shaffi. PHOTO: FORBES

Muhammad Asad Raza and Abrahim Ali Shah, 23, Neurostic

Muhammad Asad Raza and Abrahim Ali  Shah, 23, are the CEO and the CTO respectively of healthcare startup Neurostic. The firm uses technology to improve healthcare services and products across the developing world. They have also developed affordable prosthetic limbs for amputees. They feature in the Healthcare and Science category.

Pakistanis shine in Forbes ’30 Under 30′ 2018 list

Muhammad Asad Raza and Abrahim Ali Shah. PHOTO: FORBES

Muhammad Asad Raza and Abrahim Ali Shah. PHOTO: FORBES

Forbes Asia Nine Pakistanis 30 under 30 List 2018-19

فوربز کی جانب سے 30 ایشیائی بااثر اور کامیاب نوجوانوں کی فہرست جاری کی گئی۔ اس فہرست میں ان نوجوانوں کو شامل کیا گیا ہے جو اپنے اپنے ملک میں چیلنجنگ ماحول ہونے کے باوجود اپنی محنت اور کوششوں سے مثبت تبدیلیاں لانے میں کامیاب رہے۔

اس فہرست میں 30 برس سے کم عمر کے ان مردوں اور خواتین لوگوں کو شامل کیا گیا ہے جو اپنے ملک میں تبدیلی لانے کے خواہشمند ہیں۔

سنہ 2018 کے لیے ایسے ہی نوجوان فنکاروں، سائنسدانوں اور تاجروں کی فہرست میں شامل نو پاکستانیوں میں پہلا نام سعدیہ بشیر کا ہے۔

سعدیہ بشیر

فوربز کی فہرست میں شامل سعدیہ بشیر کے سر پاکستان میں ویڈیو گیمز انڈسٹری کی بنیادیں مضبوط کرنے کا سہرا ہے۔

سعدیہ پاکستان میں نوجوانوں کو ویڈیو گیم ڈیزائنگ کی تربیت دینا چاہتی ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ امریکہ کی سیلیکون ویلی میں ویڈیو گیمز کے ڈیزائنرز سے ملنے کے بعد اب وہ ان کے ساتھ مل کر پاکستان میں تربیتی پروگرامز منعقد کروانا چاہتی ہیں۔

سعدیہ بشیر پاکستان میں سالانہ گیمز کانفرنس کرواتی ہیں جس میں بین الاقوامی سپیکرز بھی سکائپ پر شامل ہوتے ہیں۔

وہ ہر سال سماجی معاملات سے متعلق شعور بیدار کرنے کے لیے گیمز کا مقابلہ بھی کرواتی ہیں۔ اسی طرح انھوں نے کینسر کے مریضوں کی جانب سے مرض کی شناخت، پانی میں آلودگی کا سبب بننے والی چیزوں سے متعلق آگہی اور امن کے پھیلاؤ اور اسے متاثر کرنے والے عناصر کی شناخت پر گیمز بنائی گئیں۔

وہ خواتین کے مسائل سے متعلق ایک گیم کے منصوبے پر کام کر رہی ہیں جس میں بحیثیت عورت یہ گیم کھیل کر ایک عورت کے مسائل اور فیصلوں سے آگہی ملے گی۔

طبی میدان کے ہیرو: اسد رضا اور ابراہیم علی شاہ

سنہ 2006 عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے جاری کی گئی فہرست کلے مطابق پاکستان ان 57 ممالک میں شامل تھا جہاں طبی میدان میں عملے اور مہارت کی شدید قلت تھی۔

اسی ضرورت کی پیشِ نظر رکھتے ہوئے دو پاکستانی تخلیقی دماغوں نے نیوروسٹک نامی ادارہ بنایا۔

محمد اسد رضا اور ابراہیم علی شاہ دونوں کی عمر 24 برس ہے اور اس ادارے کے قیام کا مقصد ترقی پذیر ممالک کے لوگوں کے لیے کم خرچ اور اعلیٰ معیار کے طبی آلات اور مصنوعی اعضا فراہم کرنا ہے۔

نیوروسٹک طبی خدمات کے ساتھ ساتھ پاکستان، افغانستان، ایران اور شام کے ان علاقوں میں مصنوعی اعضا کی فراہمی کی خدمت بھی انجام دیتا ہے جہاں لوگوں کی بحالی کی سہولیات تک رسائی کم ہے یا بالکل نہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ابراہیم علی شاہ کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں ملنے والے مصنوعی اعضا اصلی اعضا کی جگہ تو لے لیتے ہیں لیکن یہ کام نہیں کر سکتے۔

’پہلے دستیاب مصنوعی اعضا کے ساتھ سیڑھیاں چڑھنا اترنا، گاڑی چلانا، بھاگنا یا پتھریلے رستوں پر چلنا ممکن نہیں تھا۔ ہمارے بنائے گئے اعضا میں حقیقی اعضا کی طرح گرفت ہے۔ اور ان کی قیمت بھی بہت کم ہے۔ لاکھوں میں ملنے والی چیز اب ہزاروں میں دستیاب ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’ہمارے دفاتر لاہور اور اسلام آباد میں ہیں۔ یہ تمام مصنوعی اعضا مقامی طور پر فیصل آباد میں تیار کیے جاتے ہیں۔ اعضا تو پہلے سے یہاں بنتے تھے ہم نے انہیں رہنمائی دے کر منصوعات کو پہلے سے بہتر بنایا ہے۔‘

انٹرنیٹ پر کاروبار

عدنان شفیع اور عدیل شفیع

28 سالہ عدنان شفیع اور 29 سالہ عدیل شفیع دونوں بھائی ہیں جنہوں نے سنہ 2015 میں پرائس اوئے کے نام سے انٹرنیٹ پر ایک پلیٹ فارم بنایا جہاں پاکستان کے نسبتاً چھوٹے شہروں میں برقی آلات کے قیمیوں میں تقابل کیا جا سکتا ہے۔

اس پلیٹ فارم کے ذریعے ریٹیلرز جو مارکیٹ میں رائج قیمتوں کی معلومات مل جاتی ہیں جبکہ صارفین کو اچھی قیمت پر اشیا۔ اس سے پہلے ای کامرس سٹورز کی توجہ صرف بڑی شہروں لاہور، کراچی اور اسلام آباد ہی رہتی تھی۔

ان کی اس ویب سائٹ کو گذشتہ ماہ 805000 لوگوں نے دیکھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عدیل شفیع نے فوربز کی جانب سے پذیرائی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب مزید بہتر کام کرنے کی ذمہ داری بھی بڑھ گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا ’ایک مرتبہ اپنے کمپنی کے ملازمین کو تحفے میں آئی فون دیے تو تمام تر تحقیق کے باوجود خریداری کر لینے کے بعد علم ہوا کہ ایک جگہ سے مزید سستے فون مل رہے تھے۔ اس بات سے ہمیں احساس ہوا کہ ٹیکنالوجی کی معلومات ہونے کے باوجود ہم نے مزید بچت کا موقع گنوا دیا۔ اس لیے ہم نے مزید تحقیق کی کہ ایک ایسے پلیٹ فارم کی کتنی ضرورت ہے۔ اس کے ہمیں کافی حوصلہ افزا نتائج ملے۔‘

عدیل شفیع کا کہنا تھا ’ایشیا کے دیگر ممالک میں بھی یہ کام ہو رہا تھا تو ہم نے پاکستان میں بھی یہی کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں ہمارے پارٹنر سٹور ہیں۔ جہاں ہم ایسے سٹور کو رجسٹر کرتے جو ہمارے معیار پر پورا اترتا ہے اور صارفین کی ضروریات پورا کرنے کا اہل ہوتا ہے۔`

عدیل کے بقول ’ہر کسی کو رجسٹر کرنا ناممکن ہے کیونکہ آن لائن شاپنگ میں اعتبار بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ہماری ویب سائٹ اشیا کی قیمتوں کے تقابل کے ساتھ ساتھ رجسٹر شدہ سٹورز کی مکمل معلومات بھی فراہم کرتی ہے اور یہ بھی کہ اس سٹور سے مصنوعات کتنے وقت میں صارف تک پہنچا دی جائیں گی۔‘

سماجی خدمات

حمزہ فرخ

پاکستان کے بیشتر دیہاتوں میں پینے کا صاف پانی حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو گھنٹوں پیدل سفرکرنا پڑتا ہے۔ بوندِ شمس کے خالق اسی چیز کو بدلنا چاہتے تھے۔

حمزہ فرخ 1998 میں چکوال کے ایک نواحی گاؤں میں کنویں کا آلودہ پانی پینے کی وجہ سے بیمار ہو گئے تھے اور امریکہ میں دورانِ تعلیم جب انہیں کسی سماجی منصوبے پر کام کرنے کا موقع ملا تو انہیں اپنے گاؤں کا خیال آیا۔

ان کے شمس پانی نام کے اس منصوبے کا مقصد پاکستان کے ایسے غریب علاقوں میں صاف پانی کی کمی کو پورا کرنا تھا۔ اس منصوبے کے تحت شمسی توانائی سے چلنے والے دو کنوئیں بنائے گئے جو ایک گاؤں کے 1500 افراد کو صاف پانی فراہم کرتے ہیں۔

ہر ایک پمپ روزانہ 5000 لوگوں کے لیے صاف پانی نکالنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ وہ اب تک ایسے تین منصوبے لگا چکے ہیں اور انھیں بعد میں مقامی لوگوں کے حوالے کا کر دیا جاتا ہے۔ 24 سالہ حمزہ فرخ ویلیئم کالج اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ہیں۔

فیضان حسین

23 سالہ فیضان حسین پیری ہیلیئن سسٹم نامی کمپنی کے خالق ہیں۔ فطری طور پر کم گو فیضان میٹرک کے بعد فلاحی اداروں میں رضاکار کی حیثیت سے کام کرنے لگے تو سماجی خدمت نے ان کے دل میں گھر کر لیا۔ اسی لیے انھوں نے اپنی تعلیم کو استمعال کرتے ہوئے ایسے منصوبوں پر کام کیا جو زیادہ سے زیادہ لوگوں کے کام آتے۔

فیضان حسین نے سب سے پہلے ایجو ایڈ کے نام سے سافٹ وئیر بنایا جو قوتِ گویائی سے محروم افراد کی اشاروں کی زبان کو الفاظ میں تبدیل کر کے ایسے لوگوں کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے جنہیں اشاروں کی زبان نہیں آتی۔

اس کے بعد انھوں نے ون ہیلتھ کے نام سے ایک ایسے منصوبے پر بھی کام کیا جس میں ایک بڑے علاقے میں لوگوں کے صحت سے متعلق کوائف اور ہسٹری کو یکجا کیا گیا جس کی مدد سے ڈاکٹرز کو مرض کی تشخیص اور علاج میں معاونت ملے۔

ان کی ایک ایجاد گلو گیج بھی تھا ایک ایسا دستانہ جسے صنعتوں میں کام کرنے والے افراد کے لیے بنایا گیا جس میں بیک وقت متعدد سہولیات ہونے کی وجہ سے کام کرنے والوں کو ایک ہی وقت میں ایک سے زیادہ آلات رکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

تاہم بی بی سی سے بات کرتے ہوئے فیضان حسین کا کہنا تھا کہ ’چونکہ اس دستانے کی قیمت سات سے دس ہزار روپے تھی اس لیے ایک ایسا ملک جہاں ایک مزدور کی آمدن ہی زیادہ سے زیادہ دس ہزار ہو وہاں کوئی کمپنی اپنے مزدور کو ایک ایسا دستانہ کیوں لے کر دی گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان کی مصنوعات کا مقصد پاکستانی لوگوں کو سہولت دینا تھا اس لیے انھوں نے اس کی پیرونِ ملک فروخت کے بارے میں نہیں سوچا۔

شہیر نیازی

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کے رہائشی محمد شہیر نیازی کی برقی چھتوں یعنی ‘الیکٹرک ہنی کوم’ پر کی گئی تحقیق پر مبنی مضمون رائل سوسائٹی اوپن سائنس جنرل نے شائع کیا گیا۔ یہ جریدہ دنیا بھر سے سائنس، ریاضی اور انجینیئرنگ کے میدان میں ہونے والی تحقیقات شائع کرتا ہے۔

’پاکستان کے لیے ایک اور نوبیل لانا چاہوں گا‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سائنسی علوم کی تحقیق کے لیے مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں فزکس سمیت دیگر علوم میں ایجادات کرنا چاہتا ہوں اور دنیا کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہاں سے بھی سائنسدان نکل کر آ سکتے ہیں۔‘

شہیر کی تحقیق جس نئے پہلو کو سامنے لائی وہ تھا تیل کی سطح پر حرارت کا فرق۔ شہیر نے اس عمل کی تصویر کشی بھی کی جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔

شہیر کہتے ہیں کہ برقی چھتوں کے عمل سے حاصل ہونے والے علم کا استعمال بائیو میڈیسن، پرنٹنگ اور انجینیئرنگ میں ہوتا ہے۔ ‘اس طریقے سے ہم برقی رو یا تیل کے ذریعے دوا کی ترسیل کر سکتے ہیں۔ مختلف طریقوں سے تیل کے ساتھ جوڑ توڑ کی جا سکتی ہے۔’

مستقبل میں شہیر طبعیات کے حوالے سے علم کو بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور دنیا کی کسی اچھی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرتے ہوئے اس شعبے میں تحقیق کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔

مومنہ مستحسن

مومنہ مستحسن کو کوک سٹوڈیو سے مقبولیت ملی۔ انھوں نے راحت فتح علی خان کے ساتھ گانا گایا تھا۔ اُن کے گانے کی ویڈیو کو یو ٹیوب پر نو کروڑ 70 لاکھ مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔

’میں انھیں گانا سکھاتی ہوں، وہ مجھے کرکٹ‘

مومنہ نے سوشل میڈیا پر ڈرانے دھمکانے کے خلاف مہم چلائی۔ جس کے بعد انسٹا گرام پر depressionisreal# کے ہیش ٹیگ سے انھوں نے دو ویڈیو شیئر کیں، جنھیں لاکھوں افراد نے دیکھا۔ ان ویڈیوز میں دماغی صحت کے بارے میں کھل کر بات کی گئی۔

سوشل میڈیا پر مومنہ کی پوسٹس کو ہر ماہ اوسطً دو کروڑ افراد دیکھتے ہیں اور پاکستان میں اُن کا شمار سوشل میڈیا کے بہت زیادہ نمایاں اور اثرروسوخ رکھنے والے افراد میں ہوتا ہے۔

25 سالہ مومنہ مستحسن خواتین کے مسائل پر بات کرتی ہیں تو انہیں سنا جاتا ہے کیونکہ وہ بہت سنجیدہ موضوعات کا انتخاب کرتی ہیں جن میں لڑکیوں کے لیے لڑکوں جتنے مواقع، اجرت اور مساوی عزت شامل ہے۔

No comments.

Leave a Reply

error: Content is protected !!